Back to Main Page

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

علامہ محمد اقبال
ڈالی گئی جو فصل خزاں میں شجر سے ٹوٹ/ممکن نہیں ہری ہو سحاب بہار سے: اس شعر میں شاعر ملت اسلامیہ کے علم برداروں کو اخوت ،بھائی چارہ اور اخلاق و اتحاد کا درس دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فرد اور ملت کے تعلق کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹہنی جب تک درخت کے ساتھ منسلک ہے تب تک سرسبزوشاداب اور تروتازہ،پھل پھول سے بھرپور دکھائی دے گی۔ لیکن جیسے ہی ٹوٹ کر الگ ہوگی تو پھر اس کی وقعت بے معانی ہوجائے گی۔اس مثال میں مسلمانوں کے لیے جو پیغام پوشیدہ ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو کبھی بھی برے سے برے حالات میں آپس میں ناطہ ختم نہیں کرنا چاہیےنہ ہی مایوس و ناامید ہونا چاہیےبلکہ اچھے وقت کی امید رکھنی چاہیے۔ہم مسلمان جب تک اتفاق و اتحاد سے رہیں گے،اپنی ثقافت،تہذیب و تمدن،معاشرتی اقتدار اور صراط مستقیم پر چلتے رہیں گے،تو کامیاب و کامران ہوں گے۔ ورنہ صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔
ہے لازوال عہدِ خزاں اس کے واسطے/کچھ واسطہ نہیں ہے اسے برگ و بار سے: اس شعر میں شاعر امت مسلمہ کی اخوت اور بھائی چارے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ مسلمان بھائی چارے اور باہمی محبت کی کمی کاشکار ہیں۔ پچھلے شعر کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ اس درخت سے الگ ہوجانے والی ٹہنی کے لئے اب ایسا دور خزاں پیدا ہو جاتا ہے کہ جس کوآنے والی بہار اور پھول پتوں سے اسے کوئی سروکار نہیں رہتا کیونکہ وہ اس درخت سے اپنا تعلق ختم کربیٹھتی ہے۔اس ٹہنی پر زوال کی حالت طاری رہتی ہے۔اس پر پھل پھول کبھی نہیں آتے۔ اس پر ہمیشہ مردنی چھائی رہتی ہے۔یہی کیفیت مسلمانوں کی ہے۔ اتحاد اور اتفاق کو چھوڑ کر فرقہ بندی اختیار کرلی ہے۔ کہیں مسلمان مذہبی گروہ بندی کا شکار ہیں اور کہیں نسل پرستی اور ذات پات کے اندھیروں میں گم ہیں۔اسی طرح وہ فرد جو قوم سے الگ ہوجائے وہ بھی ہمیشہ کے لیے پھلنے پھولنے کی صلاحیتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔
ہے تیرے گلستاں میں فصل خزاں کا دور/خالی ہے جیب گل،زرکامل عیار سے: اس شعر میں اقبال کا اشارہ ملت اسلامیہ کے انتہائی زوال کی طرف ہے۔مسلمانوں کے کمزور ایمان کے سبب وہ دنیا کے ہر محاذ پر ناکامی اور شکست کا سامنا کررہے ہیں۔مخالف ان پر غالب آگئے ہیں اور مسلمان محکوم و مغلوب ہوکر رہ گئے ہیں ۔ مسلمانوں تمہارے باغ میں بھی خزاں کا دور دورہ ہے کہ یہاں گلاب کے پھول زرد دانوں سے محروم ہیں۔ نباتات کی افزائش میں زرد دانے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خزاں کے موسم میں نباتات میں قوت بڑھوتری نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے تو پھول اول تو کھلتے ہی نہیں کھلیں تو زرد دانوں سے محروم ہوتے ہیں۔ علامہ اقبال کا مؤقف یہ ہے کہ امت مسلمہ میں ایسے افراد موجود نہیں جو قوم کی کشتی کی بھنور سے نکال سکیں۔مسلم معاشرہ زوال پذیر ہوگیا ہے۔ ایمان کی پختگی باقی نہیں رہی۔ دین اسلام کی رونق اور ملت اسلامیہ کے درد مند مسلمان غائب ہیں۔ گلشن اسلام کی رونق ماند پڑگئی ہے اور اس پر خزاں چھائی ہوئی ہے۔
جو نغمہ زن تھے خلوت اوراق میں طیور/ رخصت ہوئے ترے شجر سایہ دار سے: اس شعر میں شاعر مشرق فرماتے ہیں کہ وہ پرندے جو درختوں پر بیٹھے گیت گا رہے تھے۔ تمھارے باغ سے رخصت ہوگئے ہیں۔ مطلب یہ کہ مسلمانوں کو جب عروج اور ترقی حاصل تھی اس وقت ایسی باکمال ہستیاں تھیں جن کے کارناموں کے طفیل ساری دنیا میں ان کی آواز گونجتی تھی۔سائنس ،فلسفہ،طب اور ادب میں مسلمانوں نے اپنے کمال کا لوہا منوایا۔ دوسرے لفظوں میں وہ لوگ جو قوم کے خیرخواہ تھے جن کے دلوں میں قوم کا درد تھا، جوقو م کے سچے رہنما تھےوہ قوم میں موجود نہیں ہیں جو امت مسلمہ کی کھوئی ہوئی عظمت واپس لے آئیں۔
شاخ بریدہ سے سبق اندوز ہو کہ تو/ناآشنا ہے قاعدہ روزگار سے: اس شعر میں علامہ محمد اقبال ؒ مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے مسلمان! تجھے اپنی موجودہ حالت سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ایک زمانہ تھا کہ مسلمان طاقت ور اور غالب تھے۔ اتحاد و اتفاق کی مثال تھے۔ آج ہمارا اتحاد اور اتفاق داستان ماضی کا روپ دھار چکا ہے۔ غیروں کے ہاتھوں ذلت اور رسوائی کا منہ دیکھ رہے ہیں۔ محکومی، مایوسی اور زوال کا شکار ہیں۔ پوری قوم اپنی حیثیت کھو چکی ہے۔ اے ملت بیضا کے فرد تجھے اپنی نااتفاقی سے سبق سیکھنا چاہیے۔ تو دنیا کے طور طریقوں اور دستور سے مکمل طور پر ناواقف ہے۔ تجھے زمانے کی چال کو سمجھنا ہوگا۔ مسلمانوں کی ناکامیوں اور ذلتوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔غیور اور جفاکش مسلمان بننا ہوگا۔ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اور اس نصیحت سے سب ق سیکھو کیونکہ وقت غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے والوں کو بالآخر خود سبق سکھا دیتاہے۔
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ / پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ : اقبالؒ کا یہ شعر مشہور زمانہ شعر ہے اور اس میں ان کی اس تمام نظم کا نچوڑ شامل ہے یایوں کہنا بجا ہوگا کہ یہ حاصل کلام شعر ہے ۔ اس شعر میں ہمارے قومی شاعر علامہ اقبالؒ نے اپنے قومی شاعر ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے عظیم الشان الفاظ میں اتحاد ملت اور فرد وملت کے باہمی تعلق کو واضح فرمایا ہے اور واشگاف اور واضح لفظوں میں مسلمانوں کو درس دیا ہےکہ ہر فرد کو اپنا تعلق قوم سے قائم و دائم رکھنا چاہیے اور کسی بھی حالت میں قوم سے اپنا منہ نہیں موڑنا چاہیے۔ خواہ حالات اچھے ہوں یا برے کیونکہ درخت سے کٹ کر اپنی ہستی کو فنا کردینے والی شاخ بریدہ باعث عبرت کا نشان ہوجاتی ہے۔اے مسلمان! فرد اور معاشرہ لازم وملزوم ہیں۔ انفرادیت سے نکل کر اجتماعیت میں آ۔ اے امت مسلمہ کے فرد! اتفاق اور اتحاد کو اپنی زندگی کا لازمہ بنا لے۔ ملت اسلامیہ کے ساتھ جڑے رہنے میں تیر ی بقا ہے۔ اس لیے اپنی قوم کے ساتھ محنت کر۔ پھر دیکھ کامیابی کس طرح تیرے قدم چومتی ہے۔


 


 

 

Back to Main Page