Back to Main Page

غزل

حسرت موہانی
مصیبت بھی راحت فزا ہو گئی ہے / تری آرزو رہنما ہوگئی ہے: حسرت موہانی کی شاعری میں تغزل جابجا نظر آتا ہے۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف جاری آزادی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا جس کی وجہ سے انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں لیکن انہوں نے دوران قید بھی شاعری جاری رکھی۔ اس شعر میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے مصیبت و تکلیف کو حوصلے سے برداشت کرلیا ہے۔ شاعر اللہ تعالی سے پرامید ہے اور کہتا ہے کہ اگر میری جان بھی چلی گئی تو میرے دل میں اللہ تعالی کی ذات سے ملنے کی جو خواہش ہے وہ بھی پوری ہو جائے گی۔
یہ وہ راستا ہے دیارِ وفا کا/ جہاں بادِ صرصر، صبا ہوگئی ہے : اس شعر میں شاعر اللہ تعالی سے ملنے کی اپنی سچی لگن اور سچی تڑپ کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ محبوب کے گھر تک جانے والا راستہ کتنا ہی دشواریوں سے بھرا ہو لیکن دل کی سچی لگن ہر طرح کی رکاوٹیں عبور کرکے منزل تک پہنچا دیتی ہیں۔ شاعر  نے اپنے مصائب کو خندہ پیشانی سے قبول کرلیا ہے اور وہ کہتا ہے مخالفین کی طرف سے ملنے والی تکالیف اور پریشانیاں اب اس کے لیے راحت و آرام کا باعث بن چکی ہیں۔
میں درماندہ اس بار گاہ عطا کا/ گنہ گار ہوں، اک خطا ہوگئی ہے : دنیا میں کوئی بھی انسان یہ نہیں چاہتا ہے کہ اسے کسی قسم کی کوئی تکلیف پہنچے، شاعر نے چونکہ یہ شعر قید مشقت کے دوران تحریر کیے ہیں وہ کہتا ہے کہ شاید مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے اور میں قافلے سے بچھڑ کر علیحدہ ہوگیا ہوں۔ شاعر اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے اور حق بات کہنے کی وجہ سے پابند سلاسل ہے وہ اللہ تعالی کے سامنے اپنی غلطی کااعتراف کررہا ہے
ترے رتبہ دانِ محبت کی حالت / ترے شوق میں کیا سے کیا ہوگئی ہے : شاعر کہتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی قدروقیمت جان لی ہے اور اس کی محبت کے بلند مرتبے کو پہچان گیا ہوں ۔ میں اس کا شکرگزار بندہ ہوں اور اللہ کی رضا پر راضی ہوں۔اس شعر میں شاعر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے انتہائی زیادہ تعلق کو بڑی چاہت وتڑپ سے بیان کررہا ہے۔
پہنچ جائیں گے انتہا کو بھی حسرت / جب اس راہ کی ابتدا ہوگئی ہے : اس شعر میں شاعرنے انسانی زندگی کا فلسفہ بیان کیا جو کوئی بھی انسان اس دنیا میں آتا ہے ہر کسی کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ شاعر اپنے مقصد کے حصول کے لیے پرامید ہے وہ کہتا ہے کہ جلد ہی مجھے اپنی منزل مل جائے گی کیونکہ میرے سفر کا آغاز ہوچکا ہے۔

Back to Main Page