Back to Main Page

غزل

فراق گورکھپوری
سر میں سودا بھی نہیں،دل میں تمنا بھی نہیں/لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں : فراق گورکھپوری زیر نظر شعر میں دل کی ایک ایسی کیفیت بیان کررہے ہیں کہ جس میں پیار کی امنگ اور محبوب کی محبت کی خواہش موجود نہیں ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم تارک محبت ہو کر اس پر قائم رہیں۔ دراصل محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو حالات کے تحت اگر وقتی طور پر دب بھی جائے مثلا محبوب کی بے اعتنائی یا بے رخی کی وجہ سے محبت کے جذبات میں کمی تو آسکتی ہےلیکن اسے بالکل ختم کیا جانا ممکن نہیں ہے۔
اک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں/اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ،ایسا بھی نہیں: زیر تشریح شعر میں فراق نکتہ آفرینی سے اپنی دلی کیفیت عیاں کررہے ہیں کہ امنگوں کا مرکز و محور محبوب جب دل میں بس جائے تو اس گھر کا ایسا مکیں بن جاتا ہےکہ یہاں سے جاتا نہیں۔فراق کہتے ہیں کہ ایک عرصہ ہوگیا ہم نے تجھے یاد نہیں کیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم محبوب کو بھول گئے ہوں۔شعر کے حقیقی معنوں مین فراق نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو بھولے نہیں۔یہ روزمرۃ کی مصروفیات ہیں اور انسانی لغزشیں ہیں جو ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہ کرسکیں۔
یوں تو ہنگامے اٹھاتے نہیں دیوانہ عشق/مگر اے دوست، کچھ ایسوں کا ٹھکانا بھی نہیں: اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ وہ لوگ جو کسی کی محبت میں پاگل ہوجائیں وہ عشق میں دیوانے ہوجانے والے لوگ ہوتے ہیں۔ انہیں دنیاداری سے کوئی غرض نہیں ہوتی ہیں۔وہ تو بس اپنے محبوب کی یاد میں مست ہوجانے والے لوگ ہوتے ہیں۔اہل عشق ہنگامہ پرور نہیں ہوتے، مگر ان لوگوں کو بھروسہ بھی کوئی نہیں ہوتا کہ وہ کب ہنگامہ اٹھانے یعنی جھگڑا کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔ ان کی چپ کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔
آج غفلت بھی ہے ان آنکھوں میں پہلے سے سوا/آج ہی خاطر بیمار شکیبا بھی نہیں : زیر تشریح شعر میں فراق کہتے ہیں کہ آج جب میں نے اپنے محبوب کی طرف دیکھا ہےتو مجھے اس کی آنکھوں میں پہلے سے زیادہ بے رخی نظر آرہی ہے۔ یوں تو میرے محبوب نے کبھی توجہ بھی نظ سے میری طرف نہیں دیکھا۔مگر آج تو یوں لگ رہا ہے کہ میرا محبوب کچھ زیادہ ہی غصے میں ہے۔دوسری طرف میرا دل بھی آج زیادہ مضطرب ہے۔پہلے یہ محبوب کے ناروا سلوک کو برداشت کرلیتا تھا آج اسے صبر نہیں آرہا۔آج ضرور کوئی ایسی بات ہوئی ہے کہ میرے صبر کرنے والےدل کو صبر کا یارا نہیں۔
رنگ وہ فصل خزاں میں ہے کہ جس سے بڑھ کر/شان رنگینی حسنِ چمن آرا بھی نہیں: زیر شعر کی تشریح میں فراق گورکھپوری تمثیلی انداز میں اپنی پردرد زندگی پر قانع ہے وہ کہتا ہے کہ میں اپنی زندگی سے سمجھوتا کرچکا ہوں۔ اس لیے مجھے اپنی زندگی کا ہررنگ اور ہر روپ پیارا لگتا ہے۔اس لیے کہ یہ میری زندگی ہے۔مجھے معلوم ہے کہ میرے زندگی پت جھڑکے موسم کی طرح ہے اس میں دکھ ہی دکھ بھرے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو دل کو خوش کرے مگر پھر بھی یہ زندگی میری اپنی ہے۔
بات یہ ہے کہ سکونِ دل وحشی کا مقام/کنج زنداں بھی نہیں وسعت صحرا بھی نہیں: زیر تشریح شعر میں فراق دل کی بے چینی کو کسی طور قرار نہ آنے کا اظہار کرتے ہیں۔ بے قرار دل کی وحشت کو نہ تو قید خانے کی تنہائی سکون پذیر کرسکتی ہے اور نہ ریگستانوں کی ویرانی اس وحشت کو کم کرسکتی ہے۔عاشق کو قرار تو اسی وقت مل سکتا ہے جب اس کا محبوب مہربان ہو لیکن یہاں تو معاملہ بالکل مختلف ہے۔ شعر میں حقیق مفہوم پیش کیا گیا ہے کہ سکون وقرار کی تلاش ہرشخص کو ہے لیکن اسے غیر موزوں جگہوں پر تلاش کیا جاتا ہے۔ دنیا کی کوئی شے دائمی سکون سے بہرہ ور نہیں کرسکتی۔ اللہ تعالیٰ کا قرب، اس سے محبت، اسی کی خوشنودی کا حصول اور ذکر و اذکار سے ہی حقیقی سکون حاصل کیا جاسکتا ہے۔
ہم اسے منھ سے برا تو نہیں کہتے کہ فراق/ دوست تیر ا ہے، مگر آدمی اچھا بھی نہیں: فراق نے اس شعر میں محبوب کی قدروقیمت اور اہمیت کو اجاگر کیا ہے کہ اے محبوب وہ تیرا دوست ہے اور تجھ سے وابستہ ہر چیز تحسین آمیز ہے۔شاعر اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اے فراق تیرے محبوب میں نہ تو وفا ہے اور نہ ہی اس سے کسی وفا کی امید رکھی جاسکتی ہے۔ وہ ہر وقت تجھ سے بے رخی سے پیش آتا ہے۔ اس کا تمہارے ساتھ یہ سلوک کوئی اچھی بات نہیں لیکن اس کے باوجود ہم اسے اپنے منھ سے برا نہیں کہہ سکتے کیونکہ تم اسے اپنا محبوب سمجھتے ہو۔

 

 

Back to Main Page