Back to Main Page

غزل

(جگر مراد آبادی)
آدمی آدمی سے ملتا ہے / دل مگر کم کسی سے ملتا ہے : جگر مرادآبادی کا شمار غزل گوئی اعلیٰ ترین شعراء میں ہے۔ تشریح طلب شعر میں انہوں نے انسان کی معاشرتی تعلقات کی نفسات بیان کی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے ملاقات تو کرتے ہیں لیکن دل کے پسند اور معیار پر پورا نہیں اترتے۔ ہم خیال اور پسندیدہ افراد کی کمی کے باعث کم لوگوں سے دل لگی ہوتی ہے۔شاعر گہری چوٹ کھائے ہوئے ہے۔ محبوب کی بے اعتنائی اور بے وفائی کے سبب دلی مطلع پر اداسی اور محرومی کے گہرے بادل چھائے ہیں۔
بھول جاتا ہوں میں ستم اس کے / وہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے : جگر مراد آبادی نے اس شعر میں اپنے محبوب کے تلخ ترین رویے کا اظہار کیا ہے۔ محبوب کی بے اعتنائی اور بے وفائی کی وجہ سے شاعر اندر ہی اندر دکھی ہے۔ لیکن جوں ہی محبوب اس سے ملاقات کرتا ہے شاعر اس کی معصومیت اور سادہ روی کے دیکھ کر اس کی سب زیادتیاں فراموش کردیتا ہے۔
آج کیا بات ہے کہ پھولوں کا / رنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے : اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کی ہنسی کی تعریف کرتے ہوئے اس کو پھولوں کی خوشنمائی سے تشبیہ دیتا ہے' کہ نہ جانے آج کیا بات ہے میرے محبوب کی ہنسی گل و گلزار سے مشابہت رکھتی ہے۔علامتی طور پر شاعر کا کہنا ہے کہ محبوب ہنسے تو دل میں بھی بہار آجاتی ہے اور اردگرد بھی پھول کھل اٹھتے ہیں، قلب و نظر سرشار ہو جاتے ہیں۔
سلسہ، فتنہ قیامت کا / تیری خو ش قامتی سے ملتا ہے : تشریح طلب شعر میں شاعر محبوب کے خوبصورت اور متناسب قد کی توصیف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قیامت کے ہنگامے کے سارے سلسلے تیری حسین قامت سے جاملتے ہیں، تیر ا قدو قامت قیامت کی خوبصورتی کا حامل ہے۔جگر اپنے محبوب کے حسین سراپے کی رعنائی سے بے حد متاثر ہیں۔ شاعر کے خیال میں محبوب کا دل فریب سراپا دیکھ کر قیامت کا سا تاثر ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔
مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا / ٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے : اس شعر میں شاعر جگر مراد آبادی اپنے محبوب کی بے رخی اور بے نیازی کے حوالے سے بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ محبوب سے ملاقات تو ہوتی ہے لیکن اس کا ملنا اور نہ ملنا برابر ہے۔محبوب اگر تھوڑی دیر کے لیے ملتا بھی ہے تو اس کی توجہ میری ذات کی طرف کم ہوتی ہے ۔ لیکن شاعر اپنی محبت اور اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہے وہ کہتا ہے کہ میرا دل شدت سے اُسی کی محبت اور قربت کا طلب گار رہتا ہے۔
کاروبار جہاں سنورتے ہیں / ہوش جب بے خودی سے ملتا ہے : اس شعر میں شاعر انسان کی لگن اور جذبے کے بارے میں لکھتا ہے اس کا کہنا ہے کہ جب انسان کسی کام کو کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو پھر چاہے کتنی ہی رکاوٹیں آئیں وہ کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتا ہے۔ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہر کام کو خوش اسلوبی سے اور لگن سے کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جب ہوش اور بے خودی مل جائیں تو منزل مقصود تک رسائی یقینی ہوجاتی ہے۔
روح کو بھی مزا محبت کا / دل کی ہمسائیگی سے ملتا ہے : شاعر اس شعر میں روح اور جسم کے چولی دامن کے ساتھ کو واضح کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ روح اور دل کا بڑا قریبی تعلق ہے روح کے بغیر جسم ناکارہ ہوتا ہے۔اگر دل میں اچھے اور پاکیزہ خیالات آتے ہیں تو روح مطمئن ہوجاتی ہے۔روح اور دل میں یکسانیت اطمینان بخش زندگی کا باعث بنتی ہے۔اس لیے جب دل میں پاکیزہ جذبے پیدا ہوتے ہیں تو روح خود بخود دل کے کر قریب ہوجاتی ہے۔ دل میں اگر عشق حقیقی ہو تو روح شاداں و فرحاں رہتی ہے۔
 

 

Back to Main Page