Back to Main Page

غزل ادا جعفری


یہ فخر تو حاصل ہے، برے ہیں کہ بھلے ہیں / دوچار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں: اُردو شاعری میں محبوب کو انتہائی اونچا مقام حاصل ہے۔اس شعر میں شاعرہ کو اپنی کم مائیگی اور اپنے محبوب کے بلند مقام کا اعتراف کرتی ہے ۔ وہ کہتی ہے کہ اس نے اپنے محبوب کے ساتھ چند گھڑیاں گزاری ہیں وہ لمحات اس کی ساری زندگی کا حاصل اور قیمتی سرمایہ ہے۔
جلنا تو چراغوں کا مقدر ہے ازل سے/ یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہیں نہ جلے ہیں: اس شعر میں ادا جعفری کی غیرمعمولی شعری صلاحیت کا اظہار ہے۔روز اول سے ہی چراغ کا کام جلنا ہے اور روشنی پھیلانا ہے۔ روشنی نیکی سے عبارت ہے۔ دل کے کنول سے مراد خوبصورتی ہے اور جلنے سے مراد روشنی ہے جو کہ نیک خیالات کی صورت میں انسان کی زندگی میں انقلاب لاتی ہے۔ عشق حقیقی کا شعلہ غم روزگار کی وجہ سے نہ روشن ہوتا ہے اور نہ فطری رغبت اسے بجھنے دیتی ہے۔
نازک تھے کہیں رنگِ گل و بوئے سمن سے / جذبات کہ آداب کے سانچےمیں ڈھلے ہیں : اس شعر میں شاعرہ کہتی ہے کہ ایک محبت کرنے والے کے دل میں اپنے محبوب کے لیے بڑے نرم،نازک،جذبات پائے جاتے ہیں۔ یہ جذبات پھولوں کے رنگ کی طرح خوش نما ہوتے ہیں اور ان سے سمن کے پھولوں جیسی خوشبو آتی ہے۔وہ کہتی ہے کہ میرے جذبات پھولوں سے زیادہ نازک و حسین ہیں اور اسی لیے ہم نے اپنے جذبات کو حد ادب سے باہر نہیں نکلنے دیا بلکہ انہیں شائستگی اور آداب کے دائرے میں رکھا ہیں۔
تھے کتنے ستارے سرشام ہی ڈوبے / ہنگام سحر کتنے ہی خورشید ڈھلے ہیں : زیر نظر شعر میں شاعرہ دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ کرتی ہے کہ آسمان کے دامن میں بےشمار ستارے ایسے ہوتے ہیں جنہیں چمکنا نصیب نہیں ہوتا اور وہ شام ہوتے ہی ڈوب جاتے ہیں۔ ستارے ڈوبنے سے مراد یہ ہے کہ کتنے ہی بچے جنہوں نے دنیا کی خوبصورتی اور رونق سے لطف اٹھانا تھا کم عمری میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے اور بہت سے جوان جنہوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالنی تھی انہیں بھی موت نے مہلت نہ دی۔لہٰذا وہ ستارے جو شام کے وقت ہی ڈوب گئے ان کے غروب ہونے سے کئی سورج نکلے اور ہر سمت روشنی پھیل گئی۔
جو جھیل گئے ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور / تاروں کی خنک چھاؤں میں وہ لوگ جلے ہیں : اس شعر میں انسانی فطرت کی عکاسی کی گئی ہے کہ غیروں کا ظلم انسان ہنس کر برداشت کرلیتا ہےلیکن اپنوں کی تھوڑی سی بے مروتی بھی اس کی جان لے لیتی ہے۔یوں انسان کڑی دھوپ میں تو سفر کرسکتا ہے مگر ٹھنڈی چھاؤں میں سفر کرنا اس کی برداشت سے باہر ہے۔ اسی طرح غیروں کے تیر اور تلوار بھی اتنا زخمی نہیں کرسکتے جو اپنوں کی زبان کرسکتی ہے۔
اک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیں / ہم گردش دوراں سے بڑی چال چلے ہیں : زیر نظر شعر کی تشریح میں شاعرہ کہتی ہے کہ زمانے یعنی لوگوں نے تو بہت کوشش کی کہ ہمیں اندھیر ے میں رہنے دیں مگر ہم نے بھی چال چلی کہ اس نے ایک شمع چھین لی تو ہم نے دوسری جلا لی۔مصائب اور پریشانی کے مقابلے میں ہم ہار نہیں ماننے والے ۔
Online Reading: www.Quranz.com
 

Back to Main Page